سودن میں اتنا کچھ کم نہیں



آج سردیوں کی پہلی خوبصورت شام تھی۔ سیاہ بادلوں کے سبب رات تھوڑی پہلے اتر آئی تھی، سو وقت سے پہلے اسٹریٹ لائٹس جل پڑی تھیں، چاند کہیں نہیں تھا، روشنی بھرے بلب درختوں کی شاخوں سے الجھ رہے تھے۔ ہلکی ہلکی بوندا باندی تھی، بھیگی ہوئی تیز ہوا ماحول کو کچھ اور رومانٹک بنا گئی تھی۔ میں پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس میں پھولوں بھری سڑک پر چل رہا تھا۔ میرے دائیں طرف ایگزیکٹو کلب کا وسیع و عریض لان تھا، بائیں طرف وائس چانسلر کا گھر، جہاں ڈاکٹر نیاز احمد رہتے ہیں، جنہوں نے چند ماہ میں پنجاب یونیورسٹی کو دنیا کی بہترین یونیورسٹی میں بدل دیا ہے۔سڑک پر گرے ہوئے پتے میرے ساتھ اڑ رہے تھے۔

ہوا پیڑوں کے بوندوں بھرے پتوں سے سرگوشیاں کر رہی تھی۔ جیسے کوئی فائن آرٹس کی اسٹوڈنٹ ہولے ہولے سٹیاں بجا رہی ہو۔ میں اور برگِ نم آباد چلتے چلتے نہر کے کنارے پہنچ گئے۔ میں سڑک کراس کرکے لاہور کو چیرتی ہوئی جوئے آب کے فٹ پاتھ شہر کی طرف چلنے لگا۔ سکون سے بہتے ہوئے پانی میں ایک چھوٹے سے پرندے کو میں نے غوطہ لگاتے ہوئے دیکھا اور مجھے اپنے شہر میانوالی کو چیرتی پھاڑتی ہوئی تھل کینال یاد آ گئی، تند و تیز تھل کینال، جس کے کنارے میں اکثر شام کو گھوما کرتا تھا۔ اُس کی یاد میں دریائے ٹیمز کے کنارے ایک شام ایک غزل بھی کہی تھی۔

عرش تک میانوالی بے کنار لگتا تھا
دیکھتا جسے بھی تھا کوہسار لگتا تھا
ایک نہر پانی کی شہر سے گزرتی تھی
اس کا یخ رویہ بھی دل بہار لگتا تھا
ایک چائے خانہ تھا یاد کے اسٹیشن پر
بھیگتے اندھیرے میں غمگسار لگتا تھا
بارشوں کے موسم میں جب ہوا اترتی تھی
اپنے گھر کا پرنالہ آبشار لگتا تھا

میں اِس نہر کے کنارے خواب بُنا کرتا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے ساحلوں کی ریت پر بچے اکثر محل اگایا کرتے ہیں۔ میرے خواب نئے پاکستان کے خواب ہوا کرتے تھے۔ اجلی صبح اور سندر شاموں کے خواب۔ تبدیلی کے خواب۔ میں گھنٹوں سوچا کرتا تھا جب عمران خان کی حکومت آئے گی اور یہاں بادِ نو بہار چلنے لگے گی، پھول، رنگ اور خوشبو سے بھرجائیں گے۔ نرگس کی نگاہیں دمکیں گی، ہر آنکھ بصارت پائے گی۔ ہم کھوکھلے خوابوں کے شاعر کچھ اور طرح سے چہکیں گے۔

پھر خیال آیا کہ میرے اُن خوابوں کا کیا ہوا ہے، عمران خان کی حکومت تو آ گئی ہے۔ تیرہ و تار اسلام آباد میں طلوعِ صبح کا منظر پھیل چکا ہے۔ اُس شخص نے تختِ ملکِ خداداد کو اپنی گردن پر رکھ لیا ہے جس سے ہر چشمِ منتظر کو وفا کی امید ہے مگر راکھ راکھ پاکستان کو سمیٹنے والے کے آس پاس زیادہ تر ایسے لوگ جمع ہیں جن کا تعلق ہوا کے خاندان سے ہے۔ مجھے ایک ایک کر کے وہ سارے خواب یاد آئے جو میں نے دیکھےتھے۔ میں نے دیکھا کہ تھل کینال کے آس پاس جو سرکاری افسروں کی بیس بیس ایکڑوں پر پھیلی ہوئی کوٹھیاں ہیں، یہاں اسپتال بن گئے ہیں، یونیورسٹیاں قائم ہو گئی ہیں۔ یہ جو نہر کے بائیں کنارے پر آفس ہیں یہاں انگریز مزاج حکمرانوں کے بجائے سول سرونٹس کے دفتر ہیں۔

جہاں ہر شخص کی بات سنی جا رہی ہے، ہر دکھ کا مداوا ہو رہا ہے۔ ہر وہ شخص جس کے پاس روزگار نہیں، اسے بے روزگاری الائونس مل رہا ہے۔ ہر عمر رسیدہ کو پنشن مل رہی ہے، ہر بے گھر کو گھر دے دیا گیا ہے، ہیلتھ کی اعلیٰ درجے کی سہولتیں تمام لوگوں کو حاصل ہو چکی ہیں۔ ہر بچہ اسکول جا رہا ہے۔ تمام کرپٹ لوگ گرفتار ہو چکے ہیں، ہر کمانے والا ٹیکس دے رہا ہے، اپنی آمدنی چھپانے والے جیلوں میں پڑے ہیں،عدالتیں فوری انصاف دے رہی ہیں۔ سرائیکی صوبہ بن چکا ہے۔ روہی تھل اور دامان میں پانی کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ صحرا سرسبز و شاداب ہو چکے ہیں۔ شمالی علاقہ جات کی خوبصورتی دیکھنے کے لئے دنیا بھر سے سیاح آ رہے ہیں۔

پولیس بدل چکی ہے۔ سچ مچ عوام کی خدمت کرنے والی پولیس سے لوگ راستہ پوچھ رہے ہیں۔ نیا ایجوکیشن سسٹم آ چکا ہے، تعلیم کا نظام ایک ہو چکا ہے، کروڑوں درخت لگ چکے ہیں، خیبر پختونخوا کے بعد پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی زمین بھی سایہ دار درختوں نے ڈھانپ لی ہے۔ ماڈل ٹائون کے شہیدوں کا قصاص مل چکا ہے۔ اچانک ایک کار نے میرے قریب یکدم بریک لگائی، رکتے ہوئے ٹائروں کا شور مجھے خیالوں کی وادی سے روڈ پر کھینچ لایا۔ وہیں لاہور کو چیرتی ہوئی نہر کے ساتھ چلتی ہوئی سڑک کی فٹ پاتھ پر میں نے دیکھا کہ ڈرائیو نگ سیٹ پر شعیب بن عزیز بیٹھے ہوئے ہیں۔ شعیب بن عزیز جنہیں ہارون الرشید نے شاعرِ لاہور کا خطاب دیا،

اُسی شخصیت نے عمران خان کو بھی کپتان کا خطاب دیا تھا مگر یہ بہت سے لوگ بھول گئے ہیں، میں شاعرِ لاہور کی کار میں بیٹھ کر جی او آر ون میں پہنچ گیا جہاں پنجاب کے حکمران رہتے ہیں۔ جہاں بیورو کریسی آباد ہے۔ ہم آفیسر میس کے روشنی بھرے وسیع و عریض لان میں جا کر بیٹھ گئے۔ شاعرِ لاہور نے میری پریشانی کو بھانپتے ہوئے کہا حوصلہ۔ عمران خان آخری امید ہے۔ خدا ہم پاکستانیوں کو مایوس نہیں کرے گا۔ ابھی اسے اقتدار میں آئے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں میں نے کہا کہ مگر وہ جو سو دن کا اعلان تھا، سو دن ہونے میں تو صرف ایک ہفتہ رہتا ہے۔ وہ کہنے لگے ہم پاکستانیوں نے عمران خان کو پانچ سال دئیے ہیں، سو دن نہیں، سو دن تو عمران خان کا اعلان تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے جب وہ اقتدار میں آئیں گے تو تنخواہیں دینے کے لئے بھی رقم نہیں موجود ہو گی، یہ کوئی کم بات نہیں کہ وہ سو دنوں میں پاکستان کو معاشی بحران سے باہر نکال لائے ہیں۔