معاشی بحران پچاس دن بمقابلہ پانچ سال



موجودہ معاشی بحران کا ذمہ دار گزرے پچاس دن یا پانچ سال؟

ن لیگ نے پچھلے پانچ سالوں میں کھربوں کے قرضے لے کر عیاشی کی،کرپشن کی، سیاست کی اور لٹا دئے۔ نا بجلی کا خسارہ کم ہوا نا ریلوے کا نا پی آئ اے ✈کا نا اسٹیل مل کا اور نا ہی خسارہ کم کرنے کی کوئ سنجیدہ کوشش کی گئی۔

اس پر مزید یہ کہ ملکی ایکسپورٹ⚓ اور بیرونی سرمایہ کاری تاریخ کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گئی۔

نہلے پر دہلا یہ کہ جو ادارے منافع میں تھے وہ بھی سالانہ اربوں کا خسارہ کرنے لگے جیسے سوئ گیس ریڈیو پی ٹی وی وغیرہ۔

اسی تناظر میں عمران خان نے قرضے نا لینے کی بات کی تھی۔ کہ حکمران عیاشی کریں کرپشن کریں اور پھر قرضے لیں۔ اس سے بہتر ہے کہ خودکشی کر لی جائے۔

مگر اگر نوبت ملک بچانے کی آجائے اور ملک ڈیفالٹ کی سطح پر آجائے تو قرضے لینا مجبوری بن جاتی ہے۔ اور اس کا اظہار عمران خان 2013 اور جون 2018 میں کرچکا ہے



آج ملک کو جس بدترین معاشی صورتحال کا سامنا ہے وہ ن لیگ کی مجرمانہ کرپشن اور معاشی پالیسیوں اور ترجیحات کا نتیجہ ہے۔
اسکا ذمہ دار پی ٹی آئ کی پچاس روزہ حکومت کو ٹھہرانا خباثت منافقت اور گھٹیا پن کے سوا کچھ نہیں۔ دنیا جانتی تھی کہ معاشی صورتحال خطرناک ہوچکی ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ لا محالہ ہونا ہی تھا۔

پی ٹی آئ کو ذمہ دار اسکے اگلے پانچ سال کی معاشی و انتظامی کارکردگی کی بنیاد پر ٹھہرایا جانا چاھئے نا کہ گزرے پانچ سال کے گند کی بدبو اور سڑان کی بنیاد پر