نوازشریف سیدھے سادے ، ان پڑھ لوگوں کو بغاوت پر اکسارہے تھے۔ ڈاکٹرقدیرخان




جولائی کے پورے مہینے میں پاناما کیس نے عوام اور تمام ذرائع ابلاغ کو یرغمال بنائے رکھا۔ جس زور شور اور کم عقلی سے بعض وزرا نے میڈیا کے سامنے عدلیہ کی بے عزتی کی اور مضحکہ خیز الزامات لگائے اس سے یہ نظر آرہا تھا کہ میاں صاحب گینز بک میں ریکارڈ لکھوانے جارہے ہیں۔ سیاست داں تو الگ ان کے خاندان کے افراد بھی سیاست دان بن گئے اورJIT کے سامنے پیش ہونے کے بعد پریس کانفرنسیں کر ڈالیں، ایسا منظر نظر آرہا تھا کہ گویا یہ قومی ہیرو ہیں اور جنگ فتح کرنے کے بعد اپنے کارنامے سنا رہے ہیں۔


اسلام آباد سے جی ٹی روڈ کے راستے لاہور کے سفر میں ہزاروں غیرتعلیم یافتہ، بے روز گار لوگ تماشہ دیکھنے اور اس میں حصّہ لینے نکل آئے اور میاں صاحب اس وہم میں مبتلا ہوگئے کہ 20کروڑ عوام ان کے ساتھ ہیں ۔ان کا لہجہ غیرمہذبانہ اور سخت ہوتا گیا اور عدلیہ کی بے عزتی شروع کردی اور عوام کو اُکسانا شروع کردیا۔ اگر آپ اتنے بہادر ہیں اور فیصلہ نہیں مانتے تو آپ فیصلے کے بعد وزیر اعظم ہاؤس نہ چھوڑتے اور کہہ دیتے کہ آپ کو 20 کروڑ نے چنا ہے اور پارلیمنٹ میں جاکر عدلیہ کی چھٹی کردیتے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ 20 کروڑ عوام کے نمائندے کس طرح بن گے بمشکل 8 کروڑ ووٹرز ہیں اور اس میں سے چار کروڑ ووٹ ڈالتے ہیں اور آپ کو میرے اندازہ کے مطابق شاید ایک کروڑ ووٹ ملے ہونگے۔

آپ کس طرح خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان کے سو فیصد ووٹوں کا دعویٰ کررہے ہیں۔ ان کی کی تقریر سے بغاوت کی بو آرہی ہے اور ان پڑھ، سیدھے سادھے لوگوں کو بغاوت پر اُکسا رہے ہیں۔ آپ سے خود کچھ نہیں ہوا۔ جو مجمع آپ جمع کررہے ہیں اس سے زیادہ مجمع تو اکثر لیڈر جمع کرلیتے ہیں۔ بینظیر نے باہر سے واپسی پر لاہور میں جنرل ضیاء کے وقت 5 لاکھ لوگ جمع کرلئے تھے۔میاں صاحب آپ عدلیہ پر بے ڈھنگے الزامات لگا کر عوام کو یہ جتانا چاہ رہے ہیں کہ قانون کے معاملہ میں وہ لاعلم ہے اور آپ عالم ہیں۔

آپ باربار ان پر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکال دیا۔ جب کہ انھوں نے آپ کو جھوٹ پر اور صادق اور امین نہ ہونے پر نکالا ہے۔ آپ بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم ہائوس سے نکل گئے اگر آپ کو اپنے کیس پر اتنا یقین تھا تو پھر عہدہ کیوں چھوڑا، وزیر اعظم ہاؤس کیوں چھوڑا۔ آپ نے اعلیٰ ظرفی کا ثبوت نہیں دیا۔آپ پہلے اور آخری وزیر اعظم نہیں ہیں آپ سے پہلے بھی کئی عہدیدار گھر بھیج دیئے گئے ہیں اور جیل بھی کاٹ رہے ہیں۔ اسرائیل کے وزیر اعظم، صدر، کوریا کی صدر، برازیل کی صدر، فرانس کے صدر وغیرہ اسی دور سے گزر چکے ہیں اور گزر رہے ہیں۔ اٹلی کے وزیر اعظم بریسکونی بھی یہ مزہ چکھ چکے ہیں۔