Naseer

ماں کے نام ایک خط

Rate this Entry
May 10,2015
ماں تجھے میں کبھی بھول نہ پاؤں گا۔ تیرا خون میرے رگو ریشہ میں سرایت کر کے مجھے جان دے گیا۔ تیری تربیت نے مجھے سب سے محبت کرے کا سلیقہ سکھایا۔ میں ان لمحوں کو کبھی بھل نہیں سکتا جب تو خشک لکڑیوں کو چولہے میں جلا کر ہمارے لئے پراٹھے اور ناشتہ اور کھانا بناتے ہوئے تیری آنکھوں سے لکڑی کے جلنے سے تیز دھوئیں کی وجہ سے تیری آنکھوں میں پانی بھر جاتا تھا ۔لیکن کبھی تیرے منہ سے کوئی شکائت یا قسمت کا شکوہ کرتے نہیں سنا۔ ہمیشہ خدا کا شکر کرتے دیکھا۔ تیری آدھی رات کی دعائیں ہماری زندگی میں روحانی تبدیلی کا باعث بنی اور آج تک تیری دعاؤں کا ثمر پارہے ہیں۔ تیری زندگی کے ایک دن کا بھی صلہ نہیں دے سکتے۔ زندگی کے سفر میں قدم رکھ کر ہم تجھ سے ضدا ہوئے تو خدا توفیق دیتا رہا کہ ہر سال تیری کشش میں چلے آتے تھے۔ جب میں آخری مرتبہ تجھے ملنے کے لئے سات سمندر کا سفر کر کے آیا تو کتنی خوش تھی۔ تیرے دوسرے بیٹے بھی اور بیٹیا بھی تو تیرے پاس تھیں وہ کس قدر خوشقسمت تھے کہ دن رات تیری خدمت کر سکتے تھے ۔میں بھی اس وقت آپنے آپ کو بہت خوش نصیب سمجھ رہا تھا جب تجھے لے کر حج بیت اللہ کی توفیق ملی اور تیری وجہ باقی فیملی کو بھی یہ سعادت نصیب ہوئی ۔ خانہ کعبہ کے دروازے سے نکلتے میرے ہاتھ تیرے گرد حالہ کئے ہوئے تھے ۔جب اس رش میں تو گر رہی تھی تو خدا نے میرے جسم وہ قوت دی اس کے فضل سے میں تجھے وہاں سے نکالنے میں کامیاب ہو گیا ۔اور تو نے مجھے ڈھیر ساری دعاؤں کا تحفہ دیا۔ میرے پاس تیری دعاؤں کا کبھی نہ ختم ہونے والا ایک خزانہ ہے ۔ جب تو ہم سے جدا ہوئی تو میں تیرے پاس نہ تھا اور چند ماہ قبل کی تیری یادیں میرے دل میں تھیں میں تیرے آخری سفر میں اس لئے شامل نہ ہوا کہ یہ مجھ سے دیکھا نہ جائےگا ۔ اور میں اپنی آنکھوں میں تیری زندگی کی تصاویر اور یادیں رکھنا چاہتا تھا ۔ اگر چہ پردیس میں بھی میں نے سینکڑوں لوگوں کے ساتھ نماز جنازہ غائب بھی پڑھی ۔ نا جانےکیوں آج میرا دل چاہتا ہے کہ پھر تجھ سے بہت سی باتیں کروں۔ تیری یاد میرا سرمایا ہے۔ میں تیری زندگی کا ایک دن بھی نہیں چکا سکتا۔ مجھے یقین ہے کہ میرے اور تیرے خدا نے تجھے جنت الفردوس میں کسی خاص مقام پر ہی رکھا ہو گا۔ جب بھی تیرا خیال آتا ہے دل میں اک طوفان سا اٹھتا ہے اور آنکھوں میں طلاطم برپا ہو جاتا ہے۔فقط تیرا بیٹا۔
نصیر الدین۔ ۱۰ مئی ۲۰۱۵

Submit "ماں کے نام ایک خط" to Digg Submit "ماں کے نام ایک خط" to del.icio.us Submit "ماں کے نام ایک خط" to StumbleUpon Submit "ماں کے نام ایک خط" to Google

Tags: mother, s day Add / Edit Tags
Categories
Uncategorized

Comments

Leave Comment Leave Comment