Naseer

سیکس ایجوکیشن ، پریمٔیر کی اناّ؟ اس کا حل ر®

Rate this Entry
سیکس ایجوکیشن ، پریمٔیر کی اناّ؟ اس کا حل ریفرنڈم
Editorial Published in Monthly Canpak Voice , To read more visit www.canpakvoice.net
انٹاریو کی حکومت نے ہیلتھ ایجوکیشن کے نام پر سسیکس ایجوکیشن کا نیا نصاب منظور کر کے ستمبر ۲۰۱۵ سے شروع ہونے والے تعلیمی سال میں انٹاریو کے تمام اسکولوں میں رائج کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے ۔ اگرچہ گذشتہ حکومت نے عوام کے شدید رد عمل کی وجہ سے سیکس ایجوکیشن کے اس نصاب کو رائج کرنے سے پہلے ہی واپس لے لیا تھا۔انٹاریو کی کیتھلین وائن کی موجودہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ اس نصابِ تعلیم کوواپس لینے کا قطعی کوئی اردہ نہیں رکھتیں۔ اور ان کے مطابق صوبے کے چھیانوے فیصد والدین اس سیکس ایجوکیشن کے نصاب کی حمائت میں ہیں اس کے علاوہ اس نصاب کی تیاری کے لئے چار ہزار والدین کی رائے لی گئی۔ یہ نصاب ہر ایک کے لئے ہے اور پریمٔیر اس بات کی بھی تردید کرتی ہیں کہ کچھ لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ یہ کیتھلین وائن کا ذاتی ایجنڈا ہے اگر چہ وہ لزبین ہیں لیکن یہ میرا ذاتی ایجنڈا نہیں ہےاور نہ ہی یہ لبرل پارٹی کا ایجنڈا ہے بلکہ یہ ماہرین کی رائے اور سوشل میڈیا کی وجہ سے بچوں کے ساتھ پیش آنے والے زیادتی کی واقعات کے بڑھتے ہوئے اعداد وشمار کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ حکومت کے پاس اس قدر شواہد ہیں جنکی بنا پر سیکس ایجوکیشن کے اس نصاب کا پر عمل درآمد کرنا ضروری ہے۔ گذشتہ ماہ جب پریمٔیر کیتھلین وائن نے اتھنک میڈیا کو مسیساگا میں مدعو کیا۔ اسوقت پریمٔیر کیتھلین وائن کو والدین کی ایک کثیر تعداد کا سامنا کرنا پڑا جو اس بل کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ ان کا احتجاج کئی گھنٹے تک جاری رہا۔ اس موقع پر مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر سیکس ایجوکیشن کےنصاب کے خلاف پیغام لکھے تھے۔نیز اپنے نعروں کے ذریعہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ اگر چہ اس وقت سخت نعرے بازی ہورہی تھی تاہم پریمٔیر اپنی آمد پر اس جم غفیر میں چلی گئیں اور مختصر خطاب کیا ۔ انھوں نے اپنے فیصلے کا ڈٹ کر دفاع کیا ور احتجاج کرنے والوں کو صاف طور پر بتا دیا کہ اوہ اپنے فیصلہ سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گی اور وہ والدین جو اسے ناپسند کرتے ہیں ان کے لئے قانون میں آپشن آوٹ کا حق حاصل ہے۔ وہ چاہیں تو اپنے اسکول کو تحریری طور پر لکھ کر اس کورس میں شمولیت سے روک سکتے ہیں اور قانون اسکی اجازت دیتا ہے۔ اس موقع پر جن کیمیونیٹی کے افراد نے شرکت کی ان میں چائینیز، ویتنامیز، عربی سپیکنگ، سکھ، اور پاکستانی کمیونیٹی اور دیگر کمیونٹیز کے افراد شامل تھے۔ ان میں سے بعض کا کہنا تھا آپشن آوٹ کے استعمال کرنے سے بھی مسٔلہ حل نہ ہو گا بلکہ اس سے بچوں میں تجسس بڑھے گا اور اس پروگرام میں شامل ہونے والے اور نہ شامل ہونے والے طلبأ احساس کمتری کا شکار ہوں گے۔
اگر تمام حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہو گی کہ بقول حکومت کے انٹاریو کے چھیانویں فیصد والدین اس نصاب کے حق میں ہیں۔ گویا چھانوے فیصد افراد اس صوبے کے یا تو گیز ہیں یا لزبین ہیں۔ پھر ان لوگوں کا موقف غلط ثابت ہوتا ہے جواس کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ جمہوریت کے متعلق تھرڈ ورلڈ کے پسماندہ ملکوں میں یہ عام تاثر پایا جاتا ہے کہ وہاں جمہوریت برائے نام ہے جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں جمہوریت عوام کی مرضی کے مطابق کام کرتی ہے۔ اگر واقع میں ایسا ہی ہے تو حکومت وقت جس کا دعویٰ ہے کہ اسسیکس ایجوکیشنل نصاب کے نفاذ میں چھیانوے فیصد والدین کی مرضی شامل ہے۔ ہمین یقین ہے کہ اگر یہ اعداد و شمار ٹورانٹو شہر میں ایک مخصوص علاقے سے لئے گئے ہیں جہاں پر ایسے افراد کی بہتات ہویا کسی مخصوص فہرست کے افراد سے ڈیٹا لیا گیا ہے تو ہی یہ ممکن ہے لیکن یہ سائینٹیفک وے آف سیمپلینگ نہ ہو گا ۔ چونکہ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ عوام کی رائے کو مد نظر رکا جائے جو کہ حکومت وقت کا دعویٰ بھی ہے کہ اسے چھیانوے فیصد والدین کی حمائت حاصل ہے ۔اس معاملے کا آسان حل ہے کی حکومت پورے انٹاریو میں اس موضوع پر ریفرنڈم کرائے اور حکومت کوریفرنڈم کروانے میں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ اس کا دعویٰ ہے کہ چھیانوے فیصد والدین ان کے حق میں ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ہماری سوسائیٹی کا رخ کس طرف ہے۔ ممکن ہے انٹاریو میں اس وقت اکثریت گیز یا لیزبین کی ہو ایسے میں وہ جن کا خیال ہے کہ اقلیت کا ایجنڈا اکثریت پر تھونپا جا رہا ہے وہ غلط ثابت ہو جائیں ۔ ہمارے نزدیک تو سیکوئیل اورینٹیشن کسی کا ذاتی معاملہ ہے ہومو سیکسوئیل یا بائی سیکسوئیل،گیز یا لیزبین ہونے کی وجہ سے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی جاسکتی۔ سب کو برابر حقوق حاصل ہیں۔ ان حالات میں والدین کو ریفرنڈم کے ذریعہ سے اس معاملے میں رائے دہی کا حق ملنا چاہیئے اور سب کے حقوق کی حفاظت ہونی چاہیئے۔ ورنہ موجودہ حالات میں حکومت ااپنی طاقت کے زعم میں اس نصاب کو کو تو نافذ کر چکی ہے لیکن یہ دھبہ ہمیشہ پریمٔیر کے نام پر رہے گا کہ حکومت نے عوام کی مرضی کے خلاف اس سیکس ایجوکیشن کے نصاب کو اپنے ذاتی ایجنڈا کے طور پر نافض کیا ۔ انٹاریو کی لبرل حکومت اس امر سے بھی بخوبی واقف ہے کہ آئیندہ الیکشن میں پولیٹیکل اِیشو کے طور مخالف پارٹیاں اسے استعمال کریں گی ۔ بعض کا یہ بھی خیال ہے محض اس اِیشو کی وجہ سےانٹاریو میں لبرل پارٹی کی ناکامی یقینی ہے اور پریمیر کو بھی اس امر کا علم ہے کہ لہذا اپنے ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ اور اب یہ پریمیر کی انا کا مسئلہ بن چکا ہے ہمارے نزدیک اس کا بہترین حل ریفرنڈم ہے۔ امید کرتے ہیں کہ حکومت وقت جمہورت کے اس نظام میں ریفرنڈم کروا کے جمہور کی آواز کو سنے گی۔ اس سے حکومت کی پوزیشن بھی مضبوط ہو گی۔

Submit "سیکس ایجوکیشن ،  پریمٔیر کی اناّ؟  اس کا حل  ر®" to Digg Submit "سیکس ایجوکیشن ،  پریمٔیر کی اناّ؟  اس کا حل  ر®" to del.icio.us Submit "سیکس ایجوکیشن ،  پریمٔیر کی اناّ؟  اس کا حل  ر®" to StumbleUpon Submit "سیکس ایجوکیشن ،  پریمٔیر کی اناّ؟  اس کا حل  ر®" to Google

Comments

Leave Comment Leave Comment