Naseer

کیا واقع میں حضرت مرزا صاحب وبائی ہیضہ سے فو&

Rate this Entry

کیا واقع میں حضرت مرزا صاحب وبائی ہیضہ سے فوت ہوئے؟
ان کی وفات کب اور کہاں ہوئی؟ الزام کی قلعی کھل گئی، کیا ۔ان کی نعش کو مال گاڑی میں قادیان روانہ کیا گیا ؟۔ڈاکٹر طاہر القادری کا صریح جھوٹ پکڑا گیا!
مقامی اخبار میں ڈاکٹر طاہرالقادری کی قسطوار چھپنےوالی کتاب کی قسط نمبر ۱۲۰ کا مُسکِت اور مدلل جواب
http://www.canpakvoice.net/ page 14-15 حضرت مرزا غلام احمد کی وفات پر اعتراضات کا جواب

ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی کتاب عقیدہ ختم نبوت جو کہ ہفت روزہ اردو پوسٹ کینیڈا میں قسطوار شائع ہو رہی ہے ۔ اسکی قسط نمبر ۱۲۰ ،مورخہ ۲۶ فروری ۲۰۱۵ کی اشاعت میں حضرت مرزاغلام احمد صاحب کی وفات پر اعتراض کرتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مرزا صاحب مولوی ثنا اللہ صاحب سے پہلے ہیضہ سے وفات پاگئے اور بقول ڈاکٹر طاہر القادری ـ بلاآ خر مرزا صاحب۔۔ وبائی ہیضہ سے دو چار ہو کر موت کے آہنی پنجوں میں چلے گئے۔ اور پھر وہ احمدیوں کو مشورہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔ قادیانی حضرات کو اس پر غور کرنا چاہئے اور آج سے ہی قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام کے دائرہ رحمت میں و عافیت میں آجانا چاہئے۔
چنانچہ ایک عام احمدی مسلمان ہونے کے ناطے خاکسار نے ڈاکٹر کے اس اعترض کو غور سے پڑھا اوراسکی تحقیق کی۔ جسکی تفصیل نیچے درج ہے نیز جناب ڈاکٹر قادری صاحب کی خدمت گذارش کہ ہم احمدی خدا کے فضل سے مسلمان ہیں اور ہمین اس میں ذرا بھی شک وشبہ نہین اور نہ ہی اپنے مسلمان ہونے کیلئے ہمیں کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہے ۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم حضرت مرزا غلام احمد کو اس زمانے میں مسیح موعود اور مہدی مسعودیقین کرتے ہیں جس کے آنے کی بشارت آنحضرت محمد ﷺ نے دی ۔ جبکہ باقی مسلمان اس کے آنے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں آنحضرت ﷺ ہی ہمارے آقا و مولا ہیں اور ہم ان کو آخری تشریعی نبی مانتے ہیں اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والا قرآن ہی ہماری شریعت ہے وہی کلمہ، نماز، روزہ، زکوۃ اور حج ہے اور ہم اس اسلام پر بہت خوش ہیں ۔ اس میں ہم اپنے آپ کو گھاٹے میں نہیں سمجھتے کیونکہ ہم نے امام وقت کو مانا ہے انکار نہین کیا ،فرض محال اگر خدا نخاستہ مرزا صاحب اپنے دعویٰ میں غلط ہیں تو بھی ہم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا ۔ چونکہ حضرت مرزا صاحب کا دعویٰ الہام کی بنیاد پر ہے اور انہوں نے علی لاعلان کہا کہ مجھ پر خدا کی پاک وحی ہوتی ہے۔ قرآن کے مطابق اللہ تعالیٰ نے تو حضور ﷺ کو مخاطب کر کے فرما دیا ہے کہ اگر تو بھی کوئی ایسی بات میری طرف منصوب کر کےکہے کہ یہ خدا نے مجھ پر وحی کی ہے اور تو اس بات میں نعوذبا اللہ جھوٹا ہو تو میں تیری شہہ رگ کاٹ کر ہلاک کر دوں گا ۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ سے کوئی جھوٹا بچ نہیں سکتا۔ اور ہم دیکھتے ہیں مرزا صاحب اپنے ان دعووں کے بعدبیس سال سے زائد عرصہ زندہ رہے اور اپنی طبعی موت فوت ہوئے اب اگر مرزا صاحب سچے ہوئےتو ہم تو ماننے والے ہیں جن لوگوں نے وقت کے امام کو نہیں مانا اور انکی مخالفت کی وہ اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ اس لئے قارئیں کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ وقت نکال کر ڈاکٹر صاحب کی توڑ مروڑ کراور کتر بیونت کر کے حوالہ جات کو اصل کتب میں ملاحظہ کریںتو ان کا بے بنیاد ہونا اور اصل حقائق کے برعکس ہونا آسانی سے دیکھ سکتے ہیںَ تمام کتب آن لائن موجود ہیں احمدیہ مسلم جماعت کی ویب سائت www.alislam.org پر موجود ہیں ۔ اب میں اصل موضوع کی طرف آتا ہوں جو اس وقت زیر بحث ہے اور جواباً عرض ہے
۱۔ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا حضرت مرزا صاحب کی وفات پر یہ اعتراض کوئی نیا نہیں اوراس میں کوئی بھی حقیقت نہیں اور اس کا مفصل جواب موجود ہے چونکہ ڈاکٹر صاحب موصوف نسبتاً زیادہ پڑھے لکھے اور باعلم اورایک بڑے مذہبی سکالر ہیں اور بقول ان کے ـ انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اور یو ٹیوب پر انکی اپنی آواز میں جو وڈیوپائی جاتی ہیں وہ ان کے اس دعویٰ کا منہ چڑا رہی ہے ۔ کینیڈ ین کورٹ میں جب کوئی جھوٹا ثابت ہو جائے تو وہ ناقابل اعتبار شمار ہو جاتا ہے۔ آئیے اب اس اعتراض کا کہ کیا واقعی مرزا صاحب ہیضہ کی وبائی مرض سے فوت ہوئے تھے ایمانداری کے ساتھ اور تحقیقی نظر سے جائزہ لیتے ہیں۔
ڈاکٹرطاہر القادری صاحب کے اس مضمون میں دو سوال تحقیق طلب ہیں۔
۱) کیا مولوی ثنا اللہ امرتسری صاحب کے ساتھ مرزا صاحب کا مباہلہ طے پاگیا تھا یا نہیں؟اور اسکی کیا حقیقت ہے؟
۲) کیا واقع میں حضرت مرزا صاحب وبائی ہیضہ سے فوت ہوئے؟
پہلے سوال کا جواب ہم پھر کسی وقت دیں گے کیونکہ اس قسط میں ڈاکٹر صاحب نے پورا زور یہ ثابت کرنے کے لئے لگایا ہے کہ مرزا صاحب کی وفات ہیضہ سے ہوئی۔اس لئے ہم پہلے اس کی تحقیق کرتے ہیں۔
یہاں پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے آپ نے کہا کہ وبائی ہیضہ سے وفات ہوئی اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس وقت ہیضہ کی وبا پھیلی ہوئی تھی ۔ اور لوگ ہیضہ سے مر رہے تھے مطالعہ سے پتہ چلا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب وہ پہلے شخص نہیں جنہوں نے یہ اعترا ض اٹھایا ہے بلکہ انہوں نے بغیر تحقیق کے ہی اپنے سے پہلے مخالفینِ احمدیت کے جھوٹے الزامات کو دھرایا ہے اور انہیں کو اچھالا ہے ۔ اور اس کا جواب حا ضر ہے،اب قارئیں خود تقویٰ سے اسکا مطالعہ کریں کہ حقیقت کیا ہے ؟
اسی طرح راشد علی اور اس کا پیر اپنی بے لگام کتاب میں لکھتے ہیں ۔ موت کا شکنجہ :۔
بالاخر مخالفین کی ہرزہ سرائیوں سے تنگ آکر مرزا صاحب نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں دعا کی کہ اگر جھوٹے مفتری ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں ہیضہ اور طاعون سے موت دے دے۔ چنانچہ یہ دعا مقبول بارگاہ ایزدی ہوئی اور ایک سال بھی گزرنے نہ پایا کہ مرزا صاحب بآد حسرت ویاس اپنی منہ مانگی موت یعنی ہیضہ کا شکار ہو کر چل بسے۔ مرتے وقت کلمہ تک نصیب نہ ہو سکا۔ زبان سے جو آخری الفاظ نکلے وہ یہ تھے
میر صاحب (مرزا صاحب کے خسر) مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے۔ (حیاتِ ناصر مرتبہ شیخ یعقوب علی قادیانی صفحہ ۱۱۴)
یہ بھی حسبِ معمول راشد علی اور اس کے پیر کی خیرہ سری ہے جو انہیں بار بار جھوٹ کی لعنت کا مورد بناتی ہے۔ چونکہ مخالفین کی عادت ہے کہ حضرت مرزا صاحب کی تحریروں کے اقتباسات سے فقرے لیتے ہیں اور سیاق و سباق میں بیان کردہ پوری بات کو بددیانتی سے گول کر جاتے ہیں، یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی غیر مسلم کہے کہ مسلمان نماز کیوں پڑھتے ہیں جبکہ قرآن میں تو لکھا ہے نمازکے قریب مت جاو۔ اور سیاق و سباق کو نظر انداز کردے !۔
مرزا صاحب کے وصال کا سبب
i:۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس درد اور کرب کے ساتھ اسلام پر حملوں کے دفاع میں مصروف تھے۔ اس کے لئے دن رات کی علمی محنتِ شاقّہ ، آرام میں کمی اور غذا کی طرف سے عدم توجہ کے نتیجہ میں آپ کو اعصابی کمزوری کی وجہ سے اسہال کا مرض اکثر ہو جاتا تھا ۔ امرِ واقعہ یہ ہے کہ جس صبح حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی وفات ہوئی ہے اس سے ملحقہ کئی دن آپ مسلسل دن رات تحریر وتقریر میں مصروف رہے حتّٰی کہ وفات سے بیس گھنٹے قبل بھی آپ نے لاہور میں صاحبِ علم افراد کے سامنے ایک طویل تقریر فرمائی ۔اس کی وجہ سے آپ کو اعصابی کمزوری لاحق ہوئی پھر رات کو اسی وجہ سے اسہال بھی آئے۔ اس کیفیت کا ہیضہ سے دُور کا بھی تعلق نہیں۔ نہ ہی روایات میں ڈاکٹروں کی طرف سے اس کا ذکر ملتا ہے۔حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ کی صرف ایک روایت ہے جو حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے مکذّبین ایسے رنگ میں پیش کرتے ہیں کہ گویا آپ کی وفات کی وجہ یہ تھی کہ آپ اپنے دعوٰی میں صادق نہ تھے۔
حقیقتِ حال یہ ہے کہ حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ واقعۃً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو وبائی ہیضہ ہو گیا تھا بالکل غلط ہے۔ اس فقرے کا مطلب تو صرف اس قدر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت میر صاحب سے استفسار کیا کہ مجھے وبائی ہیضہ ہو گیا ہے ؟ اور محض پوچھنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ واقعۃً وہ بات ہو بھی گئی ہو۔ یہ ایک سوال تھا جو انہوں نے پوچھا۔ ایسی حالت میں جبکہ اعصابی کمزوری ہو اور اس کی وجہ سے اسہال کی مرض بھی لاحق ہو تو نقاہت بے حد بڑھ جاتی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ سر پر چوٹ آنے کی وجہ سے حالت دِگر گوں ہو تو متاثرّ شخص سے یہ توقع رکھنا کہ اس کے ذہن میں ایک صحت مند شخص کے صحت مند ذہن کی طرح ہر بات پوری تفصیلات کے ساتھ مستحضر ہو ، انصاف کے خلاف ہے۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ پر بھی ایک مرض کی وجہ سے ایسا وقت آیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔
انّہ لیخیّل الیہ انّہ یفعل الشّی وما فعلہٗ (بخاری ۔ کتاب بدء الخلق ۔ باب فی ابلیس وجنودہ )
ترجمہ :۔ آپ ؐ کو خیال گذرتا تھا کہ آپ ؐ نے گویا کوئی کام کیا ہے حالانکہ آپ ؐ نے ایسا کیا نہ ہوتا تھا۔
(یہاں خدا تعالیٰ کی قدرت دیکھئے کہ حضرت امام بخاری ؒ اس حدیث کو ابلیس اور اس کے لشکر کے باب میں لائے ہیں۔ شاید نظرِ کشفی میں انہیں ان لوگوں کا علم ہو گیا ہو کہ ابلیس اور اس کے چیلے کون ہیں۔)
پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک ایسے فقرہ پر راشد علی اور اس کے پیر کا بغلیں بجانا بعینہ اور پھر ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا اعترض اسی طرح ہے جس طرح آنحضرت ﷺ کے بعض بشری عوارض پر مستشرقین نے استہزاء کئے ہیں۔
اس فقرے میں وبائی ہیضہ کا ذکر ہے۔ جبکہ تاریخی ریکارڈ شاہد ہے کہ اپریل ، مئی ۱۹۰۸ء میں پنجاب میں یہ وبا تھی ہی نہیں ۔ علاوہ ازیں یہ بھی تاریخی ریکارڈ سے ثابت ہے کہ لاہور میں اس وجہ سے کوئی موت نہیں ہوئی تھی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام میں بھی ہیضہ کی کوئی علامت موجود نہ تھی ۔اس لئے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے معالج میجر ڈاکٹر سِدر لینڈ پرنسپل میڈیکل کالج لاہور نے آپ کی وفات کے سرٹیفکیٹ میں لکھا تھا کہ آپ ؑ کی وفات اعصابی اسہال کی بیماری سے ہوئی ہے۔ چنانچہ اس وقت جتنے بھی اطبّاء اور ڈاکٹر آپ کے معالج تھے یا ارد گرد تھے وہ سب ڈاکٹر سِدرلینڈ کی رائے سے متفق تھے کیونکہ ا س کے علاوہ سچائی اور تھی ہی کوئی نہیں۔
ڈاکٹر کن نگھم سول سرجن لاہور کی تصدیق
اسی طرح ڈاکٹر کننگھم سِول سرجن لاہور نے جو سرٹیفیکیٹ جاری کیا اس میں اس نے تحریراً یہ تصدیق کی کہ مرزا صاحب کی وفات عام اسہال کی شکایت سے ہوئی ہے ۔ اس اسہال کی وجہ اعصابی کمزوری تھی نہ کہ ہیضہ۔
اس پر مزید گواہی کے سامان خدا تعالیٰ نے یہ بھی فرمائے کہ جب آپ ؑ کی نعش مبارک ،قادیان لے جانے کے لئے لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچی اور گاڑی میں رکھی گئی تو راشد علی اور اس کے پیر کی قماش کے لوگوں نے محض شرّ پیدا کرنے کے لئے یہ جھوٹی شکایت اسٹیشن ماسٹر کے پاس کی کہ مرزا صاحب ہیضہ کی وجہ سے فوت ہوئے ہیں۔ چونکہ وبائی مرض کی وجہ سے ہیضہ سے وفات پانے والے کو دوسرے شہر لے جانا قانوناً منع تھا اس لئے اسٹیشن ماسٹر نے نعش بھجوانے سے انکار کر دیا ۔اس پرآپؑ کے ایک صحابی، شیخ رحمت اللہ صاحب نے سِول سرجن کا سرٹیفیکیٹ دکھایا تو پھر اسٹیشن ماسٹر کو حقیقتِ حال کا علم ہوا کہ یہ شکایت کرنے والے کہ حضرت مرزا صاحب کی وفات ہیضہ سے ہوئی ہے ، جھوٹے ہیں۔ چنانچہ اس نے اجازت دی اور آپ ؑ کی نعش مبارک قادیان لائی گئی۔ یہ سب واقعات تاریخ احمدیت جلد ۳صفحہ ۵۶۲پر تفصیل کے ساتھ درج ہیں۔
پس بیماری کی کیفیت ، علاج ، وفات اور پھر بعدکے تمام واقعات راشد علی اور اس کے پیر اور ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے جھوٹ کوطشت از بام کرتے ہیں اوریہ ثابت کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات ایک طبعی موت تھی جس میں کوئی غیر طبعی عوامل کار فرما نہیں تھے۔

For Full Story read on March Issue of Monthly Canpak voice page 14-15 http://www.canpakvoice.net/

Submit "کیا واقع میں حضرت مرزا صاحب وبائی ہیضہ سے فو&" to Digg Submit "کیا واقع میں حضرت مرزا صاحب وبائی ہیضہ سے فو&" to del.icio.us Submit "کیا واقع میں حضرت مرزا صاحب وبائی ہیضہ سے فو&" to StumbleUpon Submit "کیا واقع میں حضرت مرزا صاحب وبائی ہیضہ سے فو&" to Google

Tags: None Add / Edit Tags
Categories
Uncategorized

Comments

Leave Comment Leave Comment