Naseer

دشمن کو ظلم کی برچھی سے تم سینہ ودل برمانے دو

Rate this Entry
دشمن کو ظلم کی برچھی سے تم سینہ ودل برمانے دو
www.canpakvoice.net
کہتے ہیں کہ اگر کوئی چاند پر تھوکنے کی کوشش کرتا ہے توہ اس کے منہ پر ہی پڑتی ہے۔ فرانس کے اس میگزین نے بانی اسلام حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس پر ناحق خاکے بنا کر کڑوروں مسلمانوں کی دلآزاری کی جس کے نتیجہ میں اس اخبار کے دفتر پر دو مسلح نوجوان مسلمانوں نے حملہ کر کے دفتر کے عملہ کے بارہ افراد کو ہلاک کر دیا۔ دہشت گردی کےاس واقعہ کی ہم اس لئے مذمت ہیں حضرت محمد ﷺ نے اپنی زندگی میں ایسے واقعات کو کوئی اہمیت نہ دی جن میں آپ ﷺ کی ذات اقدس پر مخالفین اور منافقین نے نازیبہ اور گستاخانہ زبان استعمال کی اور زبان بھی ایسی کہ صحابہ ؓ کا خون کھولتا تھااور صحابہؓ نےحضرت محمد ﷺ سے ایسے گستاخ کو قتل کرنے کی اجازت مانگی۔ لیکن حضور ﷺ نے کبھی بھی اس کی اجازت نہ دی بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کیا۔ حتیٰ کہ اس منافق کا جنازہ بھی پڑھا اور اس کی مغفرت کے لئے دعا بھی کی ۔ اس واقعہ کے بیان کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ نعوذ بااللہ جو چاہئے وہ برگذیدہ ہستیوں کی شان میں گستاخی کرتا پھرے بلکہ اس میں مسلمانوں کے لئے بہت بڑا سبق ہے کہ ۔ فرانس میں اتنے بڑے واقعہ کے بعد یہ توقع کی جاسکتی تھی آزادیِ تحریر کے کرتا دھرتا شائد یہ سوچیں گے کہ ایسی آزادی تحریر و تقریر جس سے کروڑوں مسلمانوں کی نہ صرف دلآزاری ہوتی ہے بلکہ اس دنیا میں بد امنی بھی پیدا ہوتی ہے۔ ایسے موضوعات پر اظہار خیال کر کے آزادیِ تحریر کے نام پر کروڑوں انسانوں کی دل آزاری کرنا در اصل دنیا کے امن کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے چارلی ابڈو میگزین نے وہی حرکت اس واقعہ کے رونما ہونے کے بعد شائع ہونے والی پہلی اشاعت میں دھرائی ہے چودہ جنوری کو شائع ہونے والے میگزین کے سرورق پر دوبارہ ایک خاکہ شائع کر کے اسے آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب کیا اوراسکی تین ملین کاپیز مختلف زبانوں میں شائع کیں اور اب انکی تعداد چھ ملین تک پہنچ چکی ہے۔ اور ایک دن قبل تما م انٹرنیشنل میڈیا میں اس کی تشہیر کی گئی ہے ایسے نازک وقت میں جب پہلے ہی دنیا میں دہشت گردی کے بے شمار واقعات ہو رہے ہیں جس سے ترقی یافتہ اقوام نبرد آزما ہیں۔اور دہشت گردی کو کو دنیا کے امن و سکون کے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں آزادی صحافت کے نام پر کسی بھی مذہب کی مقد س شخصیت کی توہیں کرنا اور پھر اس طرح پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺکی شان میں کستاخی کر کے جانے بوجھتے ہوئے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنا بھی ایک قسم کی صحافتی دہشت گردی ہے اور آذادی ِ صحافت کے نام پر بدامنی پھیلانے کے مترادف ہے۔ اب یہ بات تو اچھی طرح سے سمجھ میں آجانی چاہئے کہ یہ بھی ایک طرح کی دہشتگردی ہے۔ جو کہ آزادیِ صحافت کے نام پر کی جارہی ہے۔ قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کی روشنی میں اس پر ہمارہ ردِعمل تو یہ ہونا چاہئے کہ اس قسم کی کسی بھی حرکت کو کوئی اہمیت نہیں دینی چاہئے اور اسے بلکل نظر انداز کر دینا چاہئے کیونکہ سب جانتے ہیں ان خاقوں کا آپ ﷺ کی ذات اقدس کی شخصیت سے کوئی تعلق ہے ہی نہیں۔ اور مسلمانوں کو صبر و برداشت سے کام لینا چاہئے تاکہ اس حرکت سے دشمن جو مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے وہ اسے حاصل نہ ہوں۔ دہشت گردوں کی طرح اس حرکت کا بھی مقصد بھی مسلمانوں کے جذبات ابھارنا اور مسلمانوں کی امیج کو مزید خراب کرنا ہے۔ مغرب شائد اس امر سے واقف نہیں کہ ہر مسلمان کے نزدیک حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس کتنی اہمیت کی حامل ہے اور ان میں ایسے بھی ہیں جو اسے برداشت نہیں کر سکتے۔ اس زمانے میں آنحضرت محمد ﷺ تو موجود نہیں اور نہ ہی آج کے مسلمان ان صحابہ ؓ کی طرح ہیں جو کسی قسم کے انتقام یا جوابی کاروائی کرنے سے باز رہیں گے صبر اور برداشت سے کام لیں گے۔ ہر مسلمان کے دل میں اپنے نبی ﷺ کی گہری محبت ہے جو ماں باپ کی محبت سے بھی کہیں زیادہ ہے اور اس میں بہت شدت بھی پائی جاتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ دونوں جانب سے اس راستے کو اختیار کرنے سے گریز کیا جائے جس کے نتیجہ میں بدامنی پیدا ہوتی ہے ۔ انٹرنشنل میڈیا میں بھی اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ چارلی ابڈو کو دوبارہ یہ حرکت نہیں کرنی چاہئے تھی ۔ اور یہ وجہ ہے بہت سے میڈیا نے ان خاکوں کو نہیں دکھلایا۔ کینیڈا کی نیشنیلٹی لیتے وقت اس بات کا بھی حلف اٹھانا پرتا ہے کہ میں دوسروں کے حقوق کی بھی حفاظت کروں گا ۔ یہ ایک اتنی خوبصورت بات ہے کہ جس کی بنیاد پر مختلف مذاہب اور طبقہ فکر کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں اور اسی ایک نقطہ پر ملکوں کے درمیان بھی محبت اور امن کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ میگزین کی اس حرکت کے پیچھے لگتا ہے خفیہ عزائم کام کر رہے ہیں۔ اور اب مسلمانوں کا فرض ہے کہ جوش کی بجائے ہوش سے کام لیں اس کے ردعمل کے طور پر توبہ اور استغفار کشرت سے کریں اپنے گناہوں کی اللہ سے معافی مانگیں کہ یہ مسلمانوں کے اعمال کا ہی نتیجہ ہے کہ باوجود ایک کثیر تعداد ، کئی کئی بڑی اور دولتمند مسلمان حکومتوں کے حکمران ہونے کے ، بانی اسلام کی ذات اقدس پر اس طرح نازیبہ حملے ہو رہے ہیں ۔ آج اسلام کا تشخص خراب ہو چکا ہے ۔ مسلمانوں میں ایمان کی روح ناپید ہو چکی ہے ، اخلاقی حالت پستی کا شکار ہے ، خدا کی ذات ، قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی ذات پر ایمان رکھنے اور گہری محبت کے باوجود عملی طور ہر ایمانیات سے خالی ہیں ۔ ظاہری شریعیت کے نفاذ پر زور ہے شریعت کا اصل نفاذ تو اپنی ذات سے شروع ہوتا ہے۔ اگر ہر کوئی دوسرے کی طرف انگلی اٹھانے کی بجائے اپنی ذات پر توجہ مرکوز کرے اور اپنے آپ کو درست کرنے کی سعی میں لگ جائے تو سارا معاشرہ ٹھیک ہو سکتا ہے۔ اگر ہر مسلمان صرف ایک عہدکرلے کہ وہ جھوٹ نہیں بولے گا اور ہر فعل کرتے وقت یہ ذہن میں رکھے کہ جب مجھ سے پوچھا جائے گا تو میں نے جھوٹ نہیں بولنا چاہے اسکی کتنی بڑی قیمت چکانی پڑے ، تو نہ چوری کرے گا نہ دھوکہ دے گا اور کرتے کرتے معاشرے کی تمام برائیٰاں ختم ہو سکتی ہیں۔ آج اسلام اور بانیِ اسلام پر جو حملے ہو رہے اسکے جواب میں مسلمانوں کو کثرت سے استغفار کرنا چاہئے اور اپنے پیغمبرِ اسلام پر درود و سلام کثرت سے بھیجنا چاہیے۔ اور دشمن کو اسکی حالت میں چھوڑ دینا چاہئے ۔ کیا خوبصورت شعر ہے
دشمن کو ظلم کی برچھی سے تم سینہ ودل برمانے دو
یہ درد رہے گا بن کے دوا تم صبر کرو وقت آنے دو

Submit "دشمن کو ظلم کی برچھی سے تم سینہ ودل برمانے دو" to Digg Submit "دشمن کو ظلم کی برچھی سے تم سینہ ودل برمانے دو" to del.icio.us Submit "دشمن کو ظلم کی برچھی سے تم سینہ ودل برمانے دو" to StumbleUpon Submit "دشمن کو ظلم کی برچھی سے تم سینہ ودل برمانے دو" to Google

Tags: None Add / Edit Tags
Categories
Uncategorized

Comments

Leave Comment Leave Comment